کشمیر کے بچوں کا نیا کھیل

ہاشم نے اپنے اسکول بیگ کے ساتھ پڑے ڈبے سے اپنی پستول نکالی اور اُس کو صاف کرنا شروع کردیا، شمیمہ (ہاشم کی ماں) نے اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور پیار کیا۔ پستول صاف کرکے ہاشم نے گھر سے باہر قدم رکھا اور سنسان گلی سے ہوتا ہوا اپنے گروپ کے ساتھ ملنے پہنچا۔ 9 سالہ ہاشم اپنے گروپ ’’باغی‘‘ کا کمانڈر ہے۔ جب ہاشم وہاں پہنچا تو اُس کے گروپ کے ساتھیوں نے ہاتھ میں بندوقیں اٹھا کر کیا اُس کا شاندار استقبال کیا۔ کشمیر کی یہ جگہ کھلونے والی پستولیں بنانے کی وجہ سے مشہور ہے، جہاں بچوں میں ہاتھوں میں بلے کی جگہ کھلونے والی بندوقیں تھیں۔

جنوبی کشمیر میں واقع ہاشم کے گاؤں میں آزادی کی ریلی منعقد ہونے والی تھی جس میں آس پاس کے دیگر گاؤں کے ہزاروں لوگ شرکت کریں گے۔ یہ ریلیاں بھارتی فوج کے غاصطبانہ تسلط کے خلاف نکلنی ہیں اور ہاشم کے گروپ ’’باغی‘‘ کو اِس ریلی کی حفاظت کرنی ہے۔

’میں اپنے گاؤں کا کمانڈر ہوں‘ ہاشم نے مجھ سے کہا، جو اب تک اپنے سر پر ہرے رنگ کی پٹی باندھ چکا تھا، جس پر سنہری حروف میں لکھا تھا ’برہان‘۔ ریلی میدان کی طرف بڑھی تو آگے بڑھتے ہوئے ہاشم نے اپنے گروپ کو اپنی اپنی پوزیشن سنبھالنے کا کہا۔

’’میں یہاں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا، کاش میرے ہاتھ میں اصلی بندوق ہوتی تو اِس سے میں اِن تمام لوگوں کی حفاظت کرسکتا تھا۔‘‘

ہاشم نے مجھ سے کہا، جوکہ اب ریلی میں آنے والے لوگوں سے مبارک باد اورنیک خواہشات وصول کر رہا تھا۔ وہاں کے بوڑھے اور نوجوان سب اِن بچوں سے بہت متاثر تھے اور اِن کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔

’’ہم برہان بھائی سے بہت متاثر ہوئے ہیں،‘‘ ہاشم نے کمانڈر برہان مظفر وانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، جسے پچھلے سال 8 جولائی کو جنوبی کشمیر کے علاقے کوکرنگ میں شہید کردیا تھا۔ ہاشم نے مزید کہا کہ برہان وانی ہمارا ہیرو ہے اور ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ بے شک برہان بھائی شہید ہوگئے ہیں مگر کشمیر میں ابھی اور برہان وانی زندہ ہیں۔

چار گھنٹے ریلی کے ساتھ نعرے بلند کرنے کے بعد ہاشم کا گروپ ایک دفعہ پھر اکٹھا ہوا اور فوٹو گرافی کے لیے تیار ہوگیا۔ انہوں نے بالکل برہان وانی اور اُس کے ساتھیوں کے انداز میں کھڑے ہوکر تصویر بنوائی جوکہ پچھلے سال انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔

’’مجھے معلوم ہے میری اِس بندوق سے کچھ نہیں ہوگا مگر یہ میرا پیغام ضرور بھیجے گی کہ اگر ہمیں آزادی نہ ملی تو میں اصلی بندوق بھی اُٹھا سکتا ہوں،‘‘ ہاشم کے ساتھ کھڑے گول چہرے والے دس سالہ احمد نے کہا۔ شاید جب تک میں دسویں جماعت کے امتحان دے دوں گا، اُس نے اپنی کلاشنکوف بلند کرتے ہوئے معصومانہ اندازے لگاتے ہوئے کہا۔

حیرت کی بات یہ کہ یہ بچے اتنی کم عمر ہونے کے باوجود اپنے آس پاس ہونے والی سیاست سے آگاہ ہیں اور کشمیر کے مسائل پر تقاریر بھی کرنا جانتے ہیں۔ میں نے آواز کی جانب گردن موڑی جہاں ایک بچہ تقریر کررہا تھا کہ

 سُن لو مودی! ہمیں آزادی دو، آزادی نہ ملنے کی وجہ سے ہی ہم نے یہ بندوقیں اُٹھائی ہیں اور انشاءاللہ ہم آزادی حاصل کرکے رہیں گے تاکہ ہماری عمر کے بچے شہید کرنا تم ختم کردو۔

کشمیر میں وہ بچے جنہوں نے ابھی الف ب بھی نہیں سیکھی ہوتی، اُن کی زبانوں پر بھی بھارت کے خلاف نعرے موجود ہوتے ہیں۔ دن بدن جیسے جیسے کشمیر کے حالات خراب ہو رہے ہیں، بچوں نے اِن حالات کے درمیان اپنی دنیا کی الگ راہ نکال لی ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنا ہیرو بھی منتخب کرلیا ہے جو کوئی کارٹون نہیں بلکہ ملٹری کمانڈر ہے۔

آج کشمیر کے ہر گاؤں میں ہاشم موجود ہے اور اِن بچوں کے پسندیدہ کھیل کرکٹ اور فٹبال کی بجائے آرمی آرمی اور ہیرو برہان وانی ہے۔ ہاشم جیسے بچے ہی کشمیر کا آنے والا کل ہیں اور علاقے کی سیاست اور حالات ہی طے کریں گے کہ کشمیر کل بھی آج جیسا ہی ہوگا؟ یا پھر کشمیری بچے کھلونا پستول کے بجائے دیگر کھیل کھیلنے کا شوق پورا کریں گے؟

یہ بلاگ سب سے پہلے ایکسپریس نیوز پر شائع ہوا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s